بھٹکل:16/مئی (ایس اؤنیوز) جانوروں کی ہڈیا، جانورکا سر اور گوشت کے بعد اب بھٹکل کی ایک مندر کی سامنے والی دیوار پر خون کے کچھ دھبے پائے جانے کے بعد کافی تعداد میں لوگ مندر میں جمع ہوگئے اور شبہ ظاہر کیا کہ بھٹکل کے ماحول کو خراب کرنے کی نیت سے شرپسندوں نے اس طرح کی کارستانی انجام دی ہے۔ واردات منگل کی شام کو منظر عام پر آئی ہے۔
کوالٹی ہوٹل کے عقب میں کوٹیشور روڈ پر واقع شری دنڈین درگا مندر کی سامنے والی دیوار پر آج شام کچھ لوگوں نے خون کے نشانات دیکھے اور مندر کمیٹی کے لیڈر رام کرشنا نائک کو واقعے کی جانکاری دی۔ رام کرشنا مندر کی دیوار پر خون کے دھبوں کو دیکھا تو کمیٹی کے دیگر ممبران کو اس کی اطلاع دی ۔ جس کے ساتھ ہی کافی لوگ جمع ہوگئے۔ خبر ملتے ہی پولس جائے واردات پر پہنچ گئی۔ عوام نے پولس سے مطالبہ کیا کہ مندر میں اس طرح کی کاروائی کرنے والوں کے تعلق سے فوری چھان بین کی جائے اور اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے قبل سن 2001 میں بھی اسی مندر میں اس طرح کا ایک معاملہ پیش آنے پر پولس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے شرپسندوں کو شرارت کرنے کا مزید موقع ملا ہے۔
پولس نے خون کے نشانات کو اپنے قبضہ میں لے کر جانچ کے لئے لیباریٹری روانہ کردیا ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلے کہ یہ خون جانور کا ہے یا مچھلی کا۔معاملے کو لے کر پولس کچھ کہنے سے بچتی نظر آئی۔ اور یہ کہنے سے انکار کیا کہ معاملہ یوں ہی اچانک پیش آنے والا حادثہ ہے یا یہ شرپسندوں کی کارستانی ہے۔ بھٹکل شہری پولس تھانے میں کیس درج کرلینے کے بعد ایس آئی کوڈگنٹی ، ایس آئی انپا موگیر کی قیادت میں جانچ جاری ہے۔
اس موقع پر رام کرشنا سمیت دیگر لیڈران نےمطالبہ کیا ہے کہ پولس اپنی جانچ فوری مکمل کرے اور خاطیوں کو گرفتار کرے، ورنہ عوامی سطح پر سخت احتجاج کیا جائے گا۔